۞ خداوند متعال می فرماید:
فَاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ | ترجمه: اگر نمی دانید از اهل دانش و اطلاع بپرسید (سوره نحل - آیه ۴۳)

موقعیت شما : صفحه اصلی » احکام عید » نماز » پرسش و پاسخ
  • شناسه : 1192
  • 24 تیر 1400 - 9:37
  • 251 بازدید
  • ارسال توسط :
  • نویسنده : دارالافتاء احناف خواف

سوال:

در روز عید خواندن نماز نفل چه حکمی دارد؟

 

پاسخ:

روز عید بعد از نماز فجر تا ادای نماز عید خواندن نماز نفل چه در خانه و در عیدگاه مکروه تحریمی می باشد.و بعد از نماز عید خواندن نوافل در خود عیدگاه فقط مکروه است اما در خانه اجازه است.

 

دلایل:

ولا یتنفل قبلها مطلقاً … و کذا لا یتنفل بعدها فی مصلاه؛ فإنه مکروه عند العامه، و إن تنفل بعدها فی البیت جاز … قوله: (فإنه مکروه) أی تحریماً علی الظاهر…الخ (طحطاوی علی الدر المختار کتاب الصلاه، باب العیدین، ١/ ٣۵٣، ط: رشیدیه)

عید کے دن فجر کی نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد سے عید کی نماز ادا کرنے تک نفل نماز ادا کرنا مطلقاً (عیدگاہ ہو یا گھر یا کوئی اور جگہ) مکروہ (تحریمی) ہے، اور عید کی نماز کے بعد سے اس دن کے زوال تک صرف عیدگاہ میں نفل نماز ادا کرنا مکروہ ہے، جب کہ  عید کی نماز کے بعد گھر میں نفل نماز ادا کرنا جائز ہے۔

فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : ۱۴۳۹۰۹۲۰۲۰۲۳دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

عید الفطر کے دن تیرہ چیزیں مسنون ہیں، منجملہ ان میں سے ایک یہ ہے کہ عید کی نماز عیدگاہ میں ادا کی جائے، جہاں بھی عید کی نماز پڑھی جائے وہاں اور کوئی نفل نماز اس دن پڑھنا مکروہ ہے، نماز کے قبل بھی اور بعد بھی اور گھروں میں عید کی نماز سے پہلے نفل نماز مکروہ ہے، البتہ نماز کے بعد گھروں میں اور کوئی نماز پڑھنا جائز ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،دارالعلوم دیوبند

 

 

پاسخ دادن

ایمیل شما منتشر نمی شود. فیلدهای ضروری را کامل کنید. *

*

سوال بپرسید
close slider