سوال:
در روز عید خواندن نماز نفل چه حکمی دارد؟
پاسخ:
روز عید بعد از نماز فجر تا ادای نماز عید خواندن نماز نفل چه در خانه و در عیدگاه مکروه تحریمی می باشد.و بعد از نماز عید خواندن نوافل در خود عیدگاه فقط مکروه است اما در خانه اجازه است.
دلایل:
ولا یتنفل قبلها مطلقاً … و کذا لا یتنفل بعدها فی مصلاه؛ فإنه مکروه عند العامه، و إن تنفل بعدها فی البیت جاز … قوله: (فإنه مکروه) أی تحریماً علی الظاهر…الخ (طحطاوی علی الدر المختار کتاب الصلاه، باب العیدین، ١/ ٣۵٣، ط: رشیدیه)
عید کے دن فجر کی نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد سے عید کی نماز ادا کرنے تک نفل نماز ادا کرنا مطلقاً (عیدگاہ ہو یا گھر یا کوئی اور جگہ) مکروہ (تحریمی) ہے، اور عید کی نماز کے بعد سے اس دن کے زوال تک صرف عیدگاہ میں نفل نماز ادا کرنا مکروہ ہے، جب کہ عید کی نماز کے بعد گھر میں نفل نماز ادا کرنا جائز ہے۔
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : ۱۴۳۹۰۹۲۰۲۰۲۳دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
عید الفطر کے دن تیرہ چیزیں مسنون ہیں، منجملہ ان میں سے ایک یہ ہے کہ عید کی نماز عیدگاہ میں ادا کی جائے، جہاں بھی عید کی نماز پڑھی جائے وہاں اور کوئی نفل نماز اس دن پڑھنا مکروہ ہے، نماز کے قبل بھی اور بعد بھی اور گھروں میں عید کی نماز سے پہلے نفل نماز مکروہ ہے، البتہ نماز کے بعد گھروں میں اور کوئی نماز پڑھنا جائز ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،دارالعلوم دیوبند
تمامی مطالب این سایت متعلق به دارالافتاء مرکزی اهل سنت می باشد و استفاده از مطالب آن با ذکر منبع بلامانع است.
طراحی سایت : کلکسیون طراحی