زناشویی شماره استفتاء: #2469 ۱۹ شهریور ۱۴۰۵

حکم نزدیکی با همسر در ایام بارداری

پرسش مطرح‌شده:
حکم نزدیکی با همسر در ایام بارداری چیست؟
پاسخ دارالافتاء مرکزی اهل سنت:

الجواب حامداً و مصلیاً
وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَهُ ٱللَّٰهِ وَبَرَکَاتُهُ‎
از نظر شرعی و فقه حنفی، هنگام بارداری و حاملگی، نزدیکی و جماع با زن اشکالی ندارد، مگر اینکه همبستری به زن یاجنین ضرر برساند، در این حالت نباید همبستری شود.
چنانچه طبیب ماهر و مسلمانی به او مشوره ترک جماع را داد، شایسته است که به سخنش توجه کرده و در این حالت از همبستری اجتناب گردد.

منابع و مستندات فقهی:
سوال: کیا 2 ماہ کی حاملہ بیوی سے جماع جائزہے؟ اور کب تک جائز ہے، مطلب وضع حمل سے کتنا پہلے تک ؟
جواب
حالتِ حمل میں کسی بھی وقت بیوی سے ہم بستری کرنا شرعاً جائز ہے، بلکہ فقہاء نے لکھا ہے کہ حالتِ حمل میں ہم بستری کرنے سے بچے کے بال بڑھتے ہیں اور اس کی بینائی اور سماعت بھی تیز ہوتی ہے، البتہ اگر کوئی دِین دار و ماہر طبیب یا ڈاکٹر کسی عذر کی بنا پر احتیاط کا مشورہ دے تو اس کی بات پر عمل کرنا چاہیے۔
دبیرخانه مجمع فقهی علمای سراوان بزرگ (دارالافتاء مرکزی)